حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کمارپور،مغربی بنگال/ مولانا منیر عباس نجفی نے نمازِ جمعہ کے خطبے میں قرآن کریم کی سورۂ زمر کی آیت 53 کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ انسان خواہ کتنے ہی گناہوں میں مبتلا کیوں نہ ہو جائے، اسے اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ توبہ اور اللہ کی طرف رجوع کا دروازہ زندگی کی آخری سانس تک کھلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم نے گناہ گار انسان کو بھی ’’اے میرے بندو‘‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ گناہ انسان کو اللہ کی رحمت سے مکمل طور پر محروم نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے مایوس ہونے سے منع کیا ہے، کیونکہ مایوسی انسان کو اللہ کی طرف پلٹنے، توبہ کرنے اور اپنی اصلاح کی کوشش سے روک سکتی ہے۔
مولانا منیر عباس نجفی نے کہا کہ اللہ کی رحمت وسیع ہے اور وہ مخلصانہ توبہ کرنے والے کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان گناہ کو معمولی سمجھے یا گناہ پر اصرار کرتا رہے۔ حقیقی توبہ یہ ہے کہ انسان اپنے گناہ پر نادم ہو، اللہ سے مغفرت طلب کرے اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرے۔
انہوں نے موجودہ دور میں احساسِ جرم اور مایوسی کا شکار افراد کو قرآن کریم کے اس پیغام سے امید حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے گناہوں کو اللہ کی رحمت سے بڑا سمجھنا درست نہیں۔ جو شخص اللہ کی طرف واپس آنا چاہتا ہے، اسے مایوسی کے بجائے توبہ، اصلاح اور نیک عمل کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ